6 اشعار

جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں

Jangal mein kabhi jo ghar banaaun

جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں

«جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

جنگل میں کبھی جو گھر بناؤںاس مور کو ہم شجر بناؤں

بہتے جاتے ہیں آئینے سبمیں بھی تو کوئی بھنور بناؤں

دوری ہے بس ایک فیصلے کیپتوار چنوں کہ پر بناؤں

بہتی ہوئی آگ سے پرندہبانہوں میں سمیٹ کر بناؤں

گھر سونپ دوں گرد رہ گزر کودہلیز کو ہم سفر بناؤں

ہو فرصت خواب جو میسراک اور ہی بحر و بر بناؤں

— ثروت حسین