5 اشعار

کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیا

Kabhi tegh-e-tez supurd ki kabhi tohfa-e-gul-e-tar diya

کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیا

«کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیاکسی شاہ زادی کے عشق نے مرا دل ستاروں سے بھر دیا

یہ جو روشنی ہے کلام میں کہ برس رہی ہے تمام میںمجھے صبر نے یہ ثمر دیا مجھے ضبط نے یہ ہنر دیا

زمیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا نیا شہر ایک بساؤں گا!مرے بخت نے مرے عہد نے مجھے اختیار اگر دیا

کسی زخم تازہ کی چاہ میں کہیں بھول بیٹھوں نہ راہ میںکسی نوجواں کی نگاہ نے جو پیام وقت سحر دیا

مرے ساتھ بود و نبود میں جو دھڑک رہا ہے وجود میںاسی دل نے ایک جہان کا مجھے روشناس تو کر دیا

— ثروت حسین