5 اشعار

خاک سے چشمۂ صد رنگ ابلتے دیکھا

Khaak se chashma-e-sad rang ubalte dekha

خاک سے چشمۂ صد رنگ ابلتے دیکھا

«خاک سے چشمۂ صد رنگ ابلتے دیکھا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

خاک سے چشمۂ صد رنگ ابلتے دیکھامیں نے اس شوخ کو پوشاک بدلتے دیکھا

آتش رنگ سے دہکی ہوئی شہزادی کوہاتھ میں پھول لیے نیند میں چلتے دیکھا

آگ ہی آگ ہے سیارے پہ لیکن ہم نےشاخ زیتون تجھے پھولتے پھلتے دیکھا

تھی مؤذن کی ندا نیند سے بہتر ہے نمازمیں نے پتھر کو مناجات میں ڈھلتے دیکھا

جانیے کون سی مٹی سے بنے ہیں ثروتؔہم نے عشاق کو دریاؤں پہ چلتے دیکھا

— ثروت حسین