5 اشعار

ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا

Un oonchi surkh faseelon ka darwaza kis par wa hoga

ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا

«ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گاگھوڑے کی باگیں تھامے ہوئے شہزادہ سوچ رہا ہو گا

دو رویہ گلاب کے پودوں پر رنگوں کی بہار سجی ہوگیپتھر کی کالی سیڑھیوں پر اک دیا ابھی جلتا ہو گا

مٹی کے منقش پیالوں پر صدیوں کی گرد جمی ہوگیاڑ جانے والے پرندے کا پنجرا کیسا لگتا ہو گا

اڑتے بالوں کی اوٹ کئے ہاتھوں میں زرد چراغ لئےاسی ٹھنڈے فرش کے صحرا پر کوئی ننگے پیر چلا ہو گا

خاموش چراگاہوں کے لئے کوئی بادل ایسا گیت لکھوںانہی دھوپ بھرے میدانوں میں کہیں بھیڑوں کا غلہ ہو گا

— ثروت حسین