5 اشعار

خواب اچھے نہیں اس عمر میں گھر کے لوگو

Khwab achhe nahin is umar mein ghar ke logo

خواب اچھے نہیں اس عمر میں گھر کے لوگو

«خواب اچھے نہیں اس عمر میں گھر کے لوگو» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

خواب اچھے نہیں اس عمر میں گھر کے لوگویہی دن رات تو ہوتے ہیں سفر کے لوگو

جامنی رنگ کا شعلہ کوئی لہراتا ہےہم تو اس آگ کو دیکھیں گے ٹھہر کے لوگو

یہی مٹی جو کنارے پہ نظر آتی ہےاور ہو جاتی ہے پانی میں اتر کے لوگو

اپنے ہی شہر کا احوال سنا کرتے ہیںجیسے قصہ ہوں کسی اور نگر کے لوگو

آج ثروتؔ سے ملاقات ہوئی تھی اپنییہاں چرچے ہیں اسی آئنہ گر کے لوگو

— ثروت حسین