4 اشعار

مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہے

Magar us se aage jo tareek sehra hai woh kaun sa hai

مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہے

«مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہےابھی تو یہ منظر ہماری محبت سے دہکا ہوا ہے

بہت دیر تک اس گھنیرے شجر نے پریشان رکھاکسی شاخ پر آگ ہے اور کہیں ابر کا ذائقہ ہے

مجھے اپنا سیارہ تبدیل کرنے کی خواہش ہی کیوں ہوکہ اب بھی زمیں پر بڑا حسن ہے اور گمبھیرتا ہے

ہوائے خزاں میں درختوں کی دل جوئی لازم ہے ثروتؔگریز اور گردش کا دن ہے مگر مجھ کو رکنا پڑا ہے

— ثروت حسین