5 اشعار

راہ کے پیڑ بھی فریاد کیا کرتے ہیں

Raah ke peR bhi faryaad kiya karte hain

راہ کے پیڑ بھی فریاد کیا کرتے ہیں

«راہ کے پیڑ بھی فریاد کیا کرتے ہیں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

راہ کے پیڑ بھی فریاد کیا کرتے ہیںجانے والوں کو بہت یاد کیا کرتے ہیں

گرد جمتی چلی جاتی ہے سبھی چیزوں پرگھر کی تزئین تو افراد کیا کرتے ہیں

کام ہی کیا ہے ترے زمزمہ پردازوں کوباغ میں مدحت شمشاد کیا کرتے ہیں

پھول جھڑتے ہیں شفق فام ترے ہونٹھوں سےایسی باتیں تو پری زاد کیا کرتے ہیں

ہم نے ثروتؔ یہی جانا ہے گئے لوگوں سےآدمی بستیاں آباد کیا کرتے ہیں

— ثروت حسین