7 اشعار

میری کشتی ٹوٹ رھی ہے سر سے اونچا پانی ہے

Meri kashti toot rahi hai sar se ooncha paani hai

میری کشتی ٹوٹ رھی ہے سر سے اونچا پانی ہے

«میری کشتی ٹوٹ رھی ہے سر سے اونچا پانی ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

میری کشتی ٹوٹ رھی ہے سر سے اونچا پانی ہےپانی کاٹتے جیون بیتا پھر بھی کتنا پانی ہے

تم بھی خوش ہو اپنے گھر میں اور میں اپنے سمندر میںاپنی اپنی مٹی ہے اور اپنا اپنا پانی ہے

تم اک ندی تم اک دریا اس سے آگے کیا ہو تمجتنا تم نے سوچ رکھا ہے اس سے زیادہ پانی ہے

کھلا سمندر میرا گھر ہے میری قبر بھی ہو تو کیابازوؤں جیسی لہریں ہیں اور آنکھوں جیسا پانی ہے

اتنی سچی ایسی مکمل تنہائی کب دیکھی تھیدور دور تک کوئی نہیں ہے سورج ہے یا پانی ہے

جانے عمر کے کس حصے میں اس پر یہ احوال کھلےاس کی کہانی مٹی ہے اور میرا قصہ پانی ہے

اک لڑکی کا چہرہ ثروتؔ دل کی تہوں میں تیر گیاٹوٹتے بنتے ساحل ہیں اور جھاگ اڑاتا پانی ہے

— ثروت حسین