5 اشعار

مجھ کو یہ رنج کھائے جاتا ہے

Mujh ko yeh ranj khaaye jaata hai

مجھ کو یہ رنج کھائے جاتا ہے

«مجھ کو یہ رنج کھائے جاتا ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 27 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو یہ رنج کھائے جاتا ہےباغ پتے گرائے جاتا ہے

دیکھ رہ گیر اس بیاباں کادھوپ کے سائے سائے جاتا ہے

کوئی سمجھاؤ اس درندے کوآدمی خوں بہائے جاتا ہے

شاعر بے دماغ مٹی پربیل بوٹے بنائے جاتا ہے

زرد ہو جائے گی زمیں ثروتؔکیوں ستارے گرائے جاتا ہے

— ثروت حسین