5 اشعار

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے

Munhadam hoti hui aabadiyon mein fursat-e-yak khwaab hote

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے

«منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتےہم بھی اپنے خشت زاروں کے لیے آسودگی کا باب ہوتے

شہر آزردہ فضا میں آبگینوں کو بروئے کار لاتےشام کی ان خانماں ویرانیوں میں صحبت احباب ہوتے

تازہ و غم ناک رکھتے آس اور امید کی سب کونپلوں کواور پھر ہم راہیٔ باد شبانہ کے لیے مہتاب ہوتے

خود کلامی کے بھنور میں ڈوبتی پرچھائیں بن کر رہ گئے ہیںاس اندھیری رات میں گھر سے نکلتے تو ستارہ یاب ہوتے

خاک آلودہ زمانوں پر برستی جھومتی کالی گھٹائیںموسموں کی آب و خاک آرائیوں سے آئنے سیراب ہوتے

— ثروت حسین