6 اشعار

سحر ہوگی تارے چلے جائیں گے

Sehar hogi taare chale jaayenge

سحر ہوگی تارے چلے جائیں گے

«سحر ہوگی تارے چلے جائیں گے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

سحر ہوگی تارے چلے جائیں گےیہ ساتھی ہمارے چلے جائیں گے

کسی اجنبی سرزمیں کی طرفکنارے کنارے چلے جائیں گے

سنو شب گئے بھیڑ چھٹ جائے گییہ عشاق سارے چلے جائیں گے

ترستی رہے گی زمیں دھوپ میںسبھی ابر پارے چلے جائیں گے

وہ آئے نہ آئے مگر دوستواسے ہم پکارے چلے جائیں گے

تو کیا ان اندھیرے مکانوں میں ہمیوںہی دن گزارے چلے جائیں گے

— ثروت حسین