5 اشعار

پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر

Pehnaaye barr o bahr ke mahshar se nikal kar

پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر

«پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کردیکھوں کبھی موجود و میسر سے نکل کر

آئے کوئی طوفان گزر جائے کوئی سیلاک شعلۂ بے تاب ہوں پتھر سے نکل کر

آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بامیہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر

تا دیر رہا ذائقۂ مرگ لبوں پراک نیند کے ٹوٹے ہوئے منظر سے نکل کر

ہر رنگ میں اثبات سفر چاہئے ثروتؔمٹی پہ دھرو پاؤں سمندر سے نکل کر

— ثروت حسین