6 اشعار

نخل امید پہ ہم صبر کا پھل دیکھیں گے

Nakhl-e-umeed pe hum sabr ka phal dekhenge

نخل امید پہ ہم صبر کا پھل دیکھیں گے

«نخل امید پہ ہم صبر کا پھل دیکھیں گے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

نخل امید پہ ہم صبر کا پھل دیکھیں گےآج اگر دیکھ نہ پائیں گے تو کل دیکھیں گے

چشم نظارہ ملی ہے تو بہ ہر صورت ہمآدم خاک کو مصروف عمل دیکھیں گے

ورق زیست پہ لکھیں گے کہانی اپنینظم ہستی کو کسی روز بدل دیکھیں گے

ساتھ رکھیں گے اسے باغ کی تنہائی میںاور فوارے سے گرتا ہوا جل دیکھیں گے

مدتوں بعد کوئی زمزمہ پرداز ہواآج ہم لوگ طلسمات غزل دیکھیں گے

لوٹ کر کوئی جہاں سے نہیں آتا ثروتؔانہیں راہوں پہ کسی وقت نکل دیکھیں گے

— ثروت حسین