6 اشعار

نقش کچھ ابھارے ہیں فرش خاک پر میں نے

Naqsh kuch ubhaare hain farsh-e-khaak par main ne

نقش کچھ ابھارے ہیں فرش خاک پر میں نے

«نقش کچھ ابھارے ہیں فرش خاک پر میں نے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

نقش کچھ ابھارے ہیں فرش خاک پر میں نےنہر اک نکالی ہے وقت کاٹ کر میں نے

اس درخت کے بازو دیر سے کشادہ تھےتوڑ ہی لیا آخر ایک برگ تر میں نے

چیخ اک مسرت کی خون میں سنائی دیجب شکار کو دیکھا تیر کھینچ کر میں نے

میری دسترس میں ہے آسمان مٹی کااک لکیر کھینچی ہے دیکھ ہم شجر میں نے

جل اٹھا اندھیرے میں انبساط کا پتھرجب زمین کو دیکھا اس کو دیکھ کر میں نے

میری گفتگو ثروتؔ خواب گاہ جنت ہےخواب ہی تو دیکھا ہے خواب سے ادھر میں نے

— ثروت حسین