10 اشعار

سورج ابھی کہر میں چھپا تھا

Sooraj abhi kohar mein chhupa tha

سورج ابھی کہر میں چھپا تھا

«سورج ابھی کہر میں چھپا تھا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

سورج ابھی کہر میں چھپا تھاجو نقش تھا دور کی صدا تھا

روشن تھی ہوا کہیں کہیں پرایک آدھ کواڑ کھل چکا تھا

ویران سڑک پہ مردہ چڑیاںموسم کا عجیب سانحہ تھا

تالاب تھا یا کہ شہر کے بیچآئینہ کسی نے رکھ دیا تھا

اوجھل تھا نگاہ سے جزیرہدیوار ہوا کا سامنا تھا

شاخوں میں ہوا رکی ہوئی تھیرستہ دریا میں جا گرا تھا

لڑکی کوئی گھاٹ پر کھڑی تھیپانی پہ چراغ جل رہا تھا

آنکھوں سے پرے تہ خس و خاکخوشبو کا بدن سلگ رہا تھا

رقصاں کوئی عکس تھا نظر میںلرزاں کوئی حرف جا بہ جا تھا

ثروتؔ وہ فضائے صبح سرمالگتا ہے کہ جیسے خواب سا تھا

— ثروت حسین