5 اشعار

صبح کے شور میں ناموں کی فراوانی میں

Subah ke shor mein namon ki farawani mein

صبح کے شور میں ناموں کی فراوانی میں

«صبح کے شور میں ناموں کی فراوانی میں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

صبح کے شور میں ناموں کی فراوانی میںعشق کرتا ہوں اسی بے سر و سامانی میں

سورما جس کے کناروں سے پلٹ آتے ہیںمیں نے کشتی کو اتارا ہے اسی پانی میں

صوفیہ تم سے ملاقات کروں گا اک روزکسی سیارے کی جلتی ہوئی عریانی میں

میں نے انگور کی بیلوں میں تجھے چوم لیاکر دیا اور اضافہ تری حیرانی میں

کتنا پر شور ہے جسموں کا اندھیرا ثروتؔگفتگو ختم ہوئی جاتی ہے جولانی میں

— ثروت حسین