5 اشعار

رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھی

Raat bagheeche pe thi aur roshni patthar mein thi

رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھی

«رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھی» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھیاک صحیفے کی تلاوت ذہن پیغمبر میں تھی

آدمی کی بند مٹھی میں ستارہ تھا کوئیایک جادوئی کہانی صبح کے منتر میں تھی

ایک رخش سنگ تھا آتش کدے کے سامنےایک نیلی موم بتی دست آہن گر میں تھی

بیچ میں سوئی ہوئی تھی آتش آیندگاںایک پیراہن کی ٹھنڈک دھوپ کی چادر میں تھی

پاؤں ساکت ہو گئے ثروتؔ کسی کو دیکھ کراک کشش مہتاب جیسی چہرۂ دل بر میں تھی

— ثروت حسین