5 اشعار

سفینہ رکھتا ہوں درکار اک سمندر ہے

Safeena rakhta hoon darkaar ek samundar hai

سفینہ رکھتا ہوں درکار اک سمندر ہے

«سفینہ رکھتا ہوں درکار اک سمندر ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

سفینہ رکھتا ہوں درکار اک سمندر ہےہوائیں کہتی ہیں اس پار اک سمندر ہے

میں ایک لہر ہوں اپنے مکان میں اور پھرہجوم کوچہ و بازار اک سمندر ہے

یہ میرا دل ہے مرا آئینہ ہے شہزادیاور آئینے میں گرفتار اک سمندر ہے

کہاں وہ پیرہن سرخ اور کہاں وہ بدنکہ عکس ماہ سے بے دار اک سمندر ہے

یہ انتہائے مسرت کا شہر ہے ثروتؔیہاں تو ہر در و دیوار اک سمندر ہے

— ثروت حسین