5 اشعار

یہ جو اک پرچھائیں سی ہے پیراہن میں کہیں

Yeh jo ek parchhain si hai pairahan mein kahin

یہ جو اک پرچھائیں سی ہے پیراہن میں کہیں

«یہ جو اک پرچھائیں سی ہے پیراہن میں کہیں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

یہ جو اک پرچھائیں سی ہے پیراہن میں کہیںاس بادل کو چھو مت لینا پاگلپن میں کہیں

وہی نشیب اور وہی ستارہ کون ہے تو ہمراہیسارا جنگل بیت نہ جائے اس الجھن میں کہیں

جیسے کوئی خوش خبر پرندہ زمیں کنارے پرآگ جلی ہے دور پہاڑی کے دامن میں کہیں

گیتوں سے کچھ خواب تھے جانے کس کے سپرد کیےاسی شہر کی دیواروں میں یا پھر بن میں کہیں

دو آئینے ایک چراغ کی لو کو دہرانے میںجلتے جائیں پگھلتے جائیں تیز پون میں کہیں

— ثروت حسین