6 اشعار

ہر ایک مسرت کو فردا پہ اٹھا رکھا

Har ek masarrat ko farda pe utha rakha

ہر ایک مسرت کو فردا پہ اٹھا رکھا

«ہر ایک مسرت کو فردا پہ اٹھا رکھا» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ہر ایک مسرت کو فردا پہ اٹھا رکھایوں ہم نے سدا قتل امروز روا رکھا

جگنو تھے ستارے تھے کچھ خواب ہمارے تھےسب کچھ تمہیں دے ڈالا اپنے لئے کیا رکھا

دوکان محبت کی جس جس نے سجائی تھیگاہک نہ ملا اس کو سامان رہا رکھا

کیا خوب یہ میلہ ہے ہر شخص اکیلا ہےاک کھیلنے والے نے ہے کھیل بنا رکھا

یہ زندگی پہلے بھی کچھ کم تو نہ تھی مشکلاور اس پہ قدم راہ الفت میں ہے جا رکھا

یہ کیسی کہانی تھی جو ہم نے لکھی اپنیآغاز تو اچھا تھا انجام برا رکھا

— شبنم شکیل