شبنم شکیل کا کلام
- 01 چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا Chalte rahe to kaun sa apna kamaal tha آواز میں دستیاب
- 02 سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ Sookhe honth, sulagti aankhen, sarson jaisa rang آواز میں دستیاب
- 03 سود و زیاں Sood-o-ziyan آواز میں دستیاب
- 04 اپنے سوالوں کے جواب میں Apne sawalon ke jawab mein آواز میں دستیاب
- 05 ایک دعا Ek dua آواز میں دستیاب
- 06 نظر سے دور حقیقت رہی کئی برسوں Nazar se door haqeeqat rahi kai barson آواز میں دستیاب
- 07 ہر ایک مسرت کو فردا پہ اٹھا رکھا Har ek masarrat ko farda pe utha rakha آواز میں دستیاب
- 08 کتنے انجان جزیروں میں مجھے لے کے چلا Kitne anjaan jazeeron mein mujhe le ke chala آواز میں دستیاب
- 09 ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھا Hamrah mere koi musafir na chala tha آواز میں دستیاب
- 10 اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں Andesha haye roz-e-mukafat aur main آواز میں دستیاب
- 11 ہیں مناظر سب بہم پردہ نظر باقی نہیں Hain manazir sab baham parda-e-nazar baqi nahin آواز میں دستیاب
- 12 چلتی رہتی ہے تسلسل سے جنوں خیز ہوا Chalti rehti hai tasalsul se junoon khez hawa آواز میں دستیاب
- 13 روشنی آنے دو دیوار کو در ہونے دو Roshni aane do deewar ko dar hone do آواز میں دستیاب
- 14 ساتھ میرے دل تباہ تو ہے Saath mere dil tabah to hai آواز میں دستیاب
- 15 دل میں خوں اور آنکھ میں پانی بہت Dil mein khoon aur aankh mein pani bahut آواز میں دستیاب
- 16 وہ تو آئینہ نما تھا مجھ کو Woh to aaina numa tha mujh ko آواز میں دستیاب
- 17 ہم نشینو کچھ نہیں رکھا یہاں پر کچھ نہیں Hamnasheeno kuch nahin rakha yahan par kuch nahin آواز میں دستیاب
- 18 سب وا ہیں دریچے تو ہوا کیوں نہیں آتی Sab wa hain dariche to hawa kyon nahin aati آواز میں دستیاب
- 19 موسم کے پاس کوئی خبر معتبر بھی ہو Mausam ke paas koi khabar mo'atabar bhi ho آواز میں دستیاب
- 20 دوستوں کا ذکر کیا دشمن ہیں جب بدلے ہوئے Doston ka zikr kya dushman hain jab badle hue آواز میں دستیاب
- 21 اکثر اپنے در پئے آزار ہو جاتے ہیں ہم Aksar apne dar pe-e-aazaar ho jaate hain hum آواز میں دستیاب
- 22 رسوائی کا بھی ہم پر الزام ضروری تھا Ruswai ka bhi hum par ilzaam zaroori tha آواز میں دستیاب
- 23 بسے ہوئے تو ہیں لیکن دلیل کوئی نہیں Base hue to hain lekin daleel koi nahin آواز میں دستیاب
- 24 اک بے نام سی کھوج ہے دل کو جس کے اثر میں رہتے ہیں Ik be-naam si khoj hai dil ko jis ke asar mein rehte hain آواز میں دستیاب
- 25 کانٹے چبھتے ہیں چبھیں پاؤں میں چلتے جائیں Kaante chubhte hain chubhen paon mein chalte jaaen آواز میں دستیاب
- 26 منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے Manzar se kabhi dil ke woh hatta hi nahin hai آواز میں دستیاب
- 27 ان کی شرمندۂ احسان سی ہو جاتی ہے Un ki sharminda-e-ehsan si ho jaati hai آواز میں دستیاب
- 28 یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں Yeh silsile bhi rafaqat ke kuch ajeeb se hain آواز میں دستیاب
- 29 سمٹ نہ پائے کہ ہر سو بکھر گئے تھے ہم Simat na paaye ke har soo bikhar gaye the hum آواز میں دستیاب
- 30 در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیں Dar aaya andhera aankhon mein aur sab manzar dhundlaaye hain آواز میں دستیاب
- 31 بدل چکی ہے ہر اک یاد اپنی صورت بھی Badal chuki hai har ek yaad apni soorat bhi آواز میں دستیاب
- 32 مرا جینا گواہی دے رہا ہے Mera jeena gawahi de raha hai آواز میں دستیاب
- 33 بات ایما و اشارت سے بڑھی آپ ہی آپ Baat ema o isharat se badhi aap hi aap آواز میں دستیاب
- 34 آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا Aayin-e-wafa itna bhi saada nahin hota آواز میں دستیاب
- 35 مل بیٹھنے کے سارے قرینوں کی خیر ہو Mil baithne ke saare qareenon ki khair ho آواز میں دستیاب
- 36 یوں تو طے ہو بھی چکا ترک محبت کرنا Yun to tay ho bhi chuka tark-e-mohabbat karna آواز میں دستیاب
- 37 سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے Saamne ek be-reham haqeeqat nangi ho kar naachti hai آواز میں دستیاب
- 38 سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی Sab tod ke bandhan duniya ke main pyar ki jot jagaungi آواز میں دستیاب
- 39 گئے برس کی یہی بات یادگار رہی Gaye baras ki yahi baat yaadgaar rahi آواز میں دستیاب
- 40 وہاں بھی زہر زباں کام کر گیا ہوگا Wahan bhi zehr-e-zabaan kaam kar gaya hoga آواز میں دستیاب
- 41 اب مجھ کو کیا خبر وہ یہاں ہے بھی یا نہیں Ab mujh ko kya khabar woh yahan hai bhi ya nahin آواز میں دستیاب
- 42 بے وفا سے سوال کیا کرنا Bewafa se sawal kya karna آواز میں دستیاب
- 43 بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے Be wajah tahaffuz ki zarurat bhi nahin hai آواز میں دستیاب
- 44 ہر روز راہ تکتی ہیں میرے سنگھار کی Har roz raah takti hain mere singhaar ki آواز میں دستیاب
- 45 کتنے آسان راستے ہوتے Kitne aasaan raaste hote آواز میں دستیاب
- 46 تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ Tum se rukhsat talab hai mil jao آواز میں دستیاب
- 47 اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کرو Ab mujh ko rukhsat hona hai kuchh mera haar singhaar karo آواز میں دستیاب
- 48 قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے Qafas ko le ke udna pad raha hai آواز میں دستیاب
- 49 سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں Safar ki aakhri manzil ke rahbar hum hain آواز میں دستیاب
- 50 دور ہوا ابہام کہانی ختم ہوئی Dur hua ibhaam kahani khatm hui آواز میں دستیاب
- 51 نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے Na poochh dekh ke kitna malaal hota hai آواز میں دستیاب
- 52 ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا Zauq-e-nazar ko izn-e-nazzara na mil saka آواز میں دستیاب
- 53 تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں Tanha khade hain hum sar-e-bazaar kya karein آواز میں دستیاب
- 54 ہم تو گواہ ہیں کہ غلط تھا لکھا گیا Hum to gawah hain ke ghalat tha likha gaya آواز میں دستیاب
- 55 دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوں Dukh ka mantar padhi hui hoon آواز میں دستیاب
- 56 مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں Majboor hain par itne to majboor bhi nahin آواز میں دستیاب
- 57 ہاتھ نہ آئی دنیا بھی اور عشق میں بھی گمنام رہے Haath na aayi duniya bhi aur ishq mein bhi gumnaam rahe آواز میں دستیاب
- 58 منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے Manzar se kabhi dil ke woh hatta hi nahin hai آواز میں دستیاب