7 اشعار

آنکھوں سے یوں چراغوں میں ڈالی ہے روشنی

Aankhon se yoon charaghon mein daali hai roshni

آنکھوں سے یوں چراغوں میں ڈالی ہے روشنی

«آنکھوں سے یوں چراغوں میں ڈالی ہے روشنی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں سے یوں چراغوں میں ڈالی ہے روشنیہم جیسی چاہتے تھے بنا لی ہے روشنی

دریا غروب ہونے چلا تھا کہ آج راتغرقاب کشتیوں نے اچھالی ہے روشنی

اپنی نشست چھوڑ کے واں رکھ دیا چراغمیں نے زمین دے کے بچا لی ہے روشنی

ہاتھوں کا امتحان لیا ساری ساری راتسانچے میں صبح و شام کے ڈھالی ہے روشنی

میں نے کنار شام گزاری ہے ایک عمرمیں جانتا ہوں ڈوبنے والی ہے روشنی

کیا راکھ گر رہی ہے نظر کی منڈیر سےخالی دیا ہے اور خیالی ہے روشنی

اس بار تیرے خواب میں رکھا ہے اپنا خواباس بار روشنی میں سنبھالی ہے روشنی

— شاہین عباس