7 اشعار

سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو

Siyahi girti rahe aur diya kharab na ho

سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو

«سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہویہ طاق چشم اب اتنا بھی کیا خراب نہ ہو

ہر آنے والا اسی طرح سے تجھے چاہےمری بنائی ہوئی یہ فضا خراب نہ ہو

ازل ابد میں ٹھنی ہے سو میں نکلتا ہوںمری کڑی سے ترا سلسلہ خراب نہ ہو

ہم اس ہوا سے تو کہتے ہیں کیوں بجھایا چراغکہیں چراغ کی اپنی ہوا خراب نہ ہو

میں اپنی شرط پہ آیا تھا اس خرابے میںسو میرے ساتھ کوئی دوسرا خراب نہ ہو

مری خرابی کو یکجا کرو کہیں نہ کہیںمرا معاملہ اب جا بہ جا خراب نہ ہو

خراب ہوں بھلے اس اشتہا میں ہم اور تمپر ایک دوسرے کا ذائقہ خراب نہ ہو

— شاہین عباس