9 اشعار

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

Ab aise chaak par koza-gari hoti nahi'n thi

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

«اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھیکبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی

بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم توبہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی

ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان تھا کیامحبت ایک تھی اور ایک بھی ہوتی نہیں تھی

دیا پہنچا نہیں تھا آگ پہنچی تھی گھروں تکپھر ایسی آگ جس سے روشنی ہوتی نہیں تھی

نکل جاتے تھے سر پر بے سر و سامانی لادےبھری لگتی تھی گٹھری اور بھری ہوتی نہیں تھی

ہمیں یہ عشق تب سے ہے کہ جب دن بن رہا تھاشب ہجراں جب اتنی سرسری ہوتی نہیں تھی

ہمیں جا جا کے کہنا پڑتا تھا ہم ہیں یہیں ہیںکہ جب موجودگی موجودگی ہوتی نہیں تھی

بہت تکرار رہتی تھی بھرے گھر میں کسی سےجو شے درکار ہوتی تھی وہی ہوتی نہیں تھی

تمہی کو ہم بسر کرتے تھے اور دن ماپتے تھےہمارا وقت اچھا تھا گھڑی ہوتی نہیں تھی

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں