7 اشعار

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا

Zamīñ kā āḳhirī manzar dikhā.ī dene lagā

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا

«زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگامیں دیکھتا ہوا پتھر دکھائی دینے لگا

وہ سامنے تھا تو کم کم دکھائی دیتا تھاچلا گیا تو برابر دکھائی دینے لگا

نشان ہجر بھی ہے وصل کی نشانیوں میںکہاں کا زخم کہاں پر دکھائی دینے لگا

وہ اس طرح سے مجھے دیکھتا ہوا گزرامیں اپنے آپ کو بہتر دکھائی دینے لگا

تجھے خبر ہی نہیں رات معجزہ جو ہوااندھیرے کو، تجھے چھو کر، دکھائی دینے لگا

کچھ اتنے غور سے دیکھا چراغ جلتا ہواکہ میں چراغ کے اندر دکھائی دینے لگا

پہنچ گیا تری آنکھوں کے اس کنارے تکجہاں سے مجھ کو سمندر دکھائی دینے لگا

— شاہین عباس