7 اشعار

دل ملیں بھی تو یہی ملنے کی صورت رہے گی

Dil milein bhi to yehi milne ki surat rahe gi

دل ملیں بھی تو یہی ملنے کی صورت رہے گی

«دل ملیں بھی تو یہی ملنے کی صورت رہے گی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

دل ملیں بھی تو یہی ملنے کی صورت رہے گیایک خلوت میں مخل دوسری خلوت رہے گی

اگر اس پار سے آوازیں مرے ساتھ نہ آئیںمجھے اس پار اترنے میں سہولت رہے گی

شجر جاں سے بس اک بار اڑانے کی ہے دیران پرندوں کو کہاں میری ضرورت رہے گی

اک تسلسل سے میں لو دیتا رہوں گا دن راتروشنی مجھ سے عبارت ہے عبارت رہے گی

جب تک آتا نہیں خاموش سفر سے واپسمیری آواز ترے پاس امانت رہے گی

کیسی خاموشی سے آواز دروں ٹوٹ گئیمیں سمجھتا تھا یہ زنجیر سلامت رہے گی

مجھے آ لے کہ مری حد نظر کو جا لےایک شخص ایسا ہے جس کو یہ رعایت رہے گی

— شاہین عباس