7 اشعار

صبح کی راکھ کا ہوں ڈھیر اور ہوں روشنی کی رات

Subh ki raakh ka hoon dher aur hoon roshni ki raat

صبح کی راکھ کا ہوں ڈھیر اور ہوں روشنی کی رات

«صبح کی راکھ کا ہوں ڈھیر اور ہوں روشنی کی رات» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

صبح کی راکھ کا ہوں ڈھیر اور ہوں روشنی کی راتتھا بھی تو جسم کی سویر ہوں بھی تو جسم ہی کی رات

دیر کے بعد آج میں بیٹھا ہوں اس دیے کے پاسدیر کے بعد آئی ہے ہم پہ برابری کی رات

صبح ہوئی تو یہ خبر سن کے میں چپ سا ہو گیامیں نے خوشی سے کاٹ دی رات تری کمی کی رات

وقت کی فرد فرد پر مجھ کو گواہ مت بنامیں تھا کہیں کہیں کا دن میں تھا کبھی کبھی کی رات

فیصلہ دیجئے کہ یاں زندگی کیوں نہیں رہیدیکھیے آدمی کے خواب کاٹیے آدمی کی رات

جسم کی دھوپ چھاؤں پر کون کرے گا انحصارجسم کا دن ابھی کا دن جسم کی رات ابھی کی رات

نیند کہ بن گئی تھی داغ تا بہ ستارہ و چراغگٹھری کی کھل گئی گرہ کھل گئی پھر کسی کی رات

— شاہین عباس