8 اشعار

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے

Mohabbat mein na jaane kyon hamein fursat zyada hai

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے

«محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہےہمارا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے

ہمیں اس عالم ہجراں میں بھی رک رک کے چلنا ہےانہیں جانے دیا جائے جنہیں عجلت زیادہ ہے

یہ دل باہر دھڑکتا ہے یہ آنکھ اندر کو کھلتی ہےہم ایسے مرحلے میں ہیں جہاں زحمت زیادہ ہے

سو ہم فریادیوں کی ایک اپنی صف الگ سے ہوہمارا مسئلہ یہ ہے ہمیں حیرت زیادہ ہے

سمجھ پائے نہیں دیکھے بغیر اس کا نظر آنامشقت کم سے کم کی تھی مگر اجرت زیادہ ہے

تماشا گاہ چاروں سمت سے پر شور ہے یعنیکہیں جلوت زیادہ ہے کہیں خلوت زیادہ ہے

تجھے حلقہ بہ حلقہ کھینچتے پھرتے ہیں دنیا میںسو اے زنجیر پا یوں بھی تری شہرت زیادہ ہے

یہ ساری آمد و رفت ایک جیسی تو نہیں شاہینؔکہ دنیا میں سفر کم کم ہے اور ہجرت زیادہ ہے

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں