7 اشعار

بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم

Bolte bolte jab sirf zabaan reh gaye hum

بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم

«بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہمتب اشارے سے بتایا کہ کہاں رہ گئے ہم

ہمیں اتنی بڑی دنیا کا پتہ تھوڑی تھاجہاں ہم تم ہوا کرتے تھے وہاں رہ گئے ہم

ہم مکاں بھی تھے مکیں بھی تھے کہ بازار تھا گرمپھر خسارہ ہوا اور صرف مکاں رہ گئے ہم

دیر تک خالی مکاں خالی نہیں چھوڑتے ہیںآپ تب تھے ہی نہیں آپ کے ہاں رہ گئے ہم

گھر ہی ایسا تھا یہ کچھ دوہری مسہری والااپنا رہنے کے علاوہ بھی یہاں رہ گئے ہم

ایک آواز کے دو حصے ہوئے ٹھیک ہواتم وہاں رہ گئے خاموش یہاں رہ گئے ہم

پاؤں درزوں میں ٹکائے ہوئے سر رخنوں میںاس نہاں خانے میں رہ رہ کے عیاں رہ گئے ہم

— شاہین عباس