13 اشعار

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی

Chup ke aalam mein woh tasveer si soorat us ki

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی

«چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کیبولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی

سیڑھیاں چڑھتے اچانک وہ ملی تھی مجھ کواس کی آواز میں موجود تھی حیرت اس کی

ہاتھ چھو لوں تو لرز جاتی ہے پتے کی طرحوہی نا کردہ گناہی پہ ندامت اس کی

کسی ٹھہری ہوئی ساعت کی طرح مہر بہ لبمجھ سے دیکھی نہیں جاتی یہ اذیت اس کی

آنکھ رکھتے ہو تو اس آنکھ کی تحریر پڑھومنہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی

خود وہ آغوش کشادہ ہے جزیرے کی طرحپھیلے دریاؤں کی مانند محبت اس کی

روشنی روح کی آتی ہے مگر چھن چھن کرسست رو ابر کا ٹکڑا ہے طبیعت اس کی

ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پرثبت پھیلی ہوئی ہوئی باہوں پہ حرارت اس کی

وہ اگر جا بھی چکی ہے تو نہ آنکھیں کھولوابھی محسوس کیے جاؤ رفاقت اس کی

دل دھڑکتا ہے تو وہ آنکھ بلاتی ہے مجھےسانس آتی ہے تو ملتی ہے بشارت اس کی

وہ کبھی آنکھ بھی جھپکے تو لرز جاتا ہوںمجھ کو اس سے بھی زیادہ ہے ضرورت اس کی

وہ کہیں جان نہ لے ریت کا ٹیلہ ہوں میںمیرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اس کی

بے طلب جینا بھی شہزادؔ طلب ہے اس کیزندہ رہنے کی تمنا بھی شرارت اس کی

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں