19 اشعار

بے شمار آنکھیں

Be-shumar aankhen

بے شمار آنکھیں

«بے شمار آنکھیں» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیںبے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں

منظروں کے آئینے اپنے اپنے چہروں کو خود ہی دیکھ سکتے ہیںخود ہی جان سکتے ہیں اپنی بے نوائی کو

وسعتوں کی چادر پر سلوٹیں بہت سی ہیںاس خموش دنیا میں آہٹیں بہت سی ہیں

آتی جاتی لہروں کا ازدحام رہتا ہےوقت ایک خنجر ہے

بے نیام رہتا ہےیہ عجیب دنیا ہے جس میں کچھ نہیں ملتا

پھر بھی ایک لمحے میں بے شمار تاریخیںیوں بدلتی رہتی ہیں

جیسے خشک پتوں کا ڈھیر اڑتا پھرتا ہےبے کنار سمتوں میں

بے شمار سمتوں میں بے شمار آنکھیں ہیںکچھ نہیں ہے تکنے کو اور ہزار آنکھیں ہیں

راستوں کے دھاگے سے ہر طرف لٹکتے ہیںخاک کے جزیرے سے

ہر طرف بھٹکتے ہیںپھر بھی آسمانوں پر رات کے اندھیرے میں

صبح کے سویرے ہیںیہ عجب معمہ ہے

جس طرف بھی ہم دیکھیںٹوٹتے ہوئے لمحے بھاگتے ہوئے رستے جاگتے ہوئے منظر

آئنوں کے اندر بھی آئنوں کے باہر بھیایک شور برپا ہے

جس کو ہم نہیں سنتےاور وہ ہم سے کہتا ہے

تم بھی میرے جیسے ہومیں بھی مٹنے والا ہوں تم بھی مٹنے والے ہو

آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیںبے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں

منظروں کے آئینےرنگ رنگ آئینے کے جواب منظر ہیں

منظروں کے اندر بھی صد ہزار منظر ہیںوہ بھی مٹنے والے ہیں

ہم بھی مٹنے والے ہیں

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں