10 اشعار

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا

Rukhsat hua to aankh mila kar nahin gaya

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا

«رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیاوہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا

وہ یوں گیا کہ باد صبا یاد آ گئیاحساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گاجاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا

بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میںدیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا

شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرطوہ اپنے نقش پا تو مٹا کر نہیں گیا

گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئیلگتا ہے یوں کہ جیسے وہ آ کر نہیں گیا

تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یادجب تک وہ پتیوں کو جدا کر نہیں گیا

رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھےاور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا

ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگیوہ خار و خس میں آگ لگا کر نہیں گیا

شہزادؔ یہ گلہ ہی رہا اس کی ذات سےجاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں