13 اشعار

ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے

Iblees bhi rakh lete hain jab naam farishte

ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے

«ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتےمیں کیوں نہ کہوں مجھ سے بھی ہیں خام فرشتے

وہ نور ہیں میں خاک ہوں لیکن مرے باعثلیتے نہیں اک لمحہ بھی آرام فرشتے

تنہائی میں آ جاتی ہیں حوریں مرے گھر میںچمکاتے ہیں مسجد کے در و بام فرشتے

اک میں ہی تو ہوں رات گئے جاگنے والاسو جاتے ہیں بے ہوش سر شام فرشتے

جنت سے نکالا ہوا انسان وہی ہےشیطان بنے بیٹھے ہیں ناکام فرشتے

ہوں اتنا گنہ گار کہ اللہ کے آگےلیتے ہوئے ڈرتے ہیں مرا نام فرشتے

دنیا ہوئی آباد تو میرے ہی سبب سےانجام نہ دے پائے کوئی کام فرشتے

کیا سوچ کے انسان سے شرمائے ہوئے ہیںدیتے نہیں دیدار سر عام فرشتے

میں ایک گنہ گار نصیحت کا ہدف ہوںدنیا میں بھی ملتے ہیں بہر گام فرشتے

یہ دختر رز دانۂ گندم تو نہیں ہےچکھیں تو سہی بادۂ گلفام فرشتے

یوں غیب سے میں ڈھونڈ کے لایا ہوں مضامیںجیسے کوئی لے آئے تہ دام فرشتے

جو بات مرے دل میں تھی آئی ہے زباں پراب کرتے پھریں گے مجھے بد نام فرشتے

شہزادؔ زمانہ ہوا لیکن مری جانبلاتے نہیں اللہ کا پیغام فرشتے

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں