7 اشعار

باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر

Baagh ka baagh ujad gaya koi kaho pukaar kar

باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر

«باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کرکس نے شفق پہ مل دیے پھولوں کے رنگ اتار کر

شام کو موجۂ ہوا جانب دشت لے اڑےصبح چمن میں آ گئے خاک پہ شب گزار کر

سایۂ آفتاب میں برگ و شرر ٹھٹھر گئےبرف کہاں سے آ گئی دھوپ کا روپ دھار کر

پاس ہی منزل مراد خاک میں تھی چھپی ہوئیراہ میں پا بریدہ لوگ بیٹھ چکے تھے ہار کر

آج ترے خیال سے دل کو بہت سکوں ملاڈوب چلی یہ موج بھی مجھ کو ابھار ابھار کر

جلوۂ ماہتاب بھی شعبدۂ خیال ہےرات کے پاس کچھ نہیں صبح کا انتظار کر

ولولۂ حیات کے دل میں کئی چراغ تھےوقت نے سب بجھا دیے ایک ہی پھونک مار کر

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں