6 اشعار

شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو

Shehr ka shehr agar aaye bhi samjhane ko

شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو

«شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کواس سے کیا فرق پڑے گا ترے دیوانے کو

کیا کوئی کھیل ہے بے نام و نشاں ہو جاناویسے تو شمع بھی تیار ہے جل جانے کو

وہ عجب شخص تھا کل جس سے ملاقات ہوئیمیں ملا ہوں کسی جانے ہوئے ان جانے کو

ایک لمحہ بھی تو بے کار نہیں کٹ سکتاایک گتھی جو ملی ہے مجھے سلجھانے کو

یہ الگ بات کہ اک بوند مقدر میں نہ تھیسر پہ سو بار گھٹا چھائی رہی چھانے کو

شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفلسانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں