7 اشعار

تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے

Teri talash to kya teri aas bhi na rahe

تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے

«تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہےعجب نہیں کہ کسی دن یہ پیاس بھی نہ رہے

ہر ایک سمت خلا ہی خلا نظر آئیںخرابۂ دل ویراں میں یاس بھی نہ رہے

غم فراق کی تلخی وہ دشت ہے کہ جہاںکوئی قریب تو کیا آس پاس بھی نہ رہے

ترا خیال ہی پر تول کر اڑا لے جائےکوئی امید شریک حواس بھی نہ رہے

تمام رنگ ہے خوشبو تمام خوشبو رنگگلوں سے رنگ اڑا لیں تو باس بھی نہ رہے

لٹا ہے قافلۂ آگہی دوراہے پرزمانہ ساز تو کیا خود شناس بھی نہ رہے

کسی طریق سے شہزادؔ دل کو سمجھا لیںنہ مسکرائے مگر یوں اداس بھی نہ رہے

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں