10 اشعار

یادوں کی زنجیریں

Yaadon ki zanjeeren

یادوں کی زنجیریں

«یادوں کی زنجیریں» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ایک زمانہ بیت گیااب میں اپنے جسم کے بکھرے ٹکڑوں کے انبار پہ بیٹھا

سوچ رہا ہوںمیرا ان سے کیا رشتہ ہے

ان کا آپس میں کیا رشتہ ہےکون ہوں میں

اور کس تلوار سے میں نے اپنے جسم کے ٹکڑے کاٹے ہیںاب میں کیا ہوں

اور اب مجھ کو کیا کرنا ہےمیں نے کیا تعمیر کیا تھا

چھوٹی چھوٹی یادوں کی زنجیر سےمیں نے اپنے انگ انگ کو باندھ لیا تھا

اپنے گرد پرانے اور نئے لفظوں کی دیواریں چن لی تھیںاب میرا ان دیواروں سے

ان زنجیروں سےکوئی رشتہ باقی ہے تو اتنا ہے

جیسے اپنی رہائی کا مجھ کو یقیں نہ ہومیں دیوانہ ہوں

اب مجھ سے اتنا فیض کرو یارومیں نے جتنے شعر لکھے ہیں میرے سر پہ دے مارو

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں