10 اشعار

جینے مرنے کے درمیان ایک ساعت

Jeene marne ke darmiyan ek saa'at

جینے مرنے کے درمیان ایک ساعت

«جینے مرنے کے درمیان ایک ساعت» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

کبھی جینے کبھی مرنے کی خواہش روک لیتی ہےوگرنہ میں ہوا کی لہر میں تحلیل ہو جاؤں

کدھر جاؤں کہ ہر سو ساعتیں رستے کا پتھر ہیںاگر بیٹھا رہوں تو راکھ میں تبدیل ہو جاؤں

وہ جادوگر تھا جس نے رات پر پہرے بٹھائے تھےوگرنہ اب تلک یہ چاند تارے مٹ چکے ہوتے

جنون آگہی مانوس آنکھوں سے چھلک جاتابساط زندگی کے سارے مہرے پٹ چکے ہوتے

مجھے معلوم ہے اک چاند دن کو بھی نکلتا ہےمجھے معلوم ہے راتیں بھی اک خورشید رکھتی ہیں

اگر یہ دونوں عالم ایک ہو جائیں تو پھر کیا ہوہوائیں رات دن یکتائی کی امید رکھتی ہیں

مگر ان وسعتوں کو کون بانہوں میں سمیٹے گاکہاں سے آئے گی وہ روشنی جو منتہی ہوگی

دلوں کی تیرگی کچھ اور گہری ہوتی جاتی ہےاذیت روشنی کی دن کی رگ رگ نے سہی ہوگی

کدھر جاؤں کہ ہر سو راستے کرنوں کی صورت ہیںمگر کرنوں پہ چلنا بے قراری کو نہیں آتا

وہ نقطہ جس پہ میں ہوں مرقد شام غریباں ہےمگر اس سمت کوئی آہ و زاری کو نہیں آتا

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں