10 اشعار

بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں

Balaayein aankhon se un ki mudaam lete hain

بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں

«بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے حماد مہر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیںہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں

ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیںتو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں

شب وصال کے روز فراق میں کیا کیانصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں

قمر ہی داغ غلامی فقط نہیں رکھتاوہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ہیں

ہم ان کے زور کے قائل ہیں ہیں وہی شہ زورجو عشق میں دل مضطر کو تھام لیتے ہیں

قتیل ناز بتاتے نہیں تجھے قاتلجب ان سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں

ترے اسیر جو صیاد کرتے ہیں فریادتو پھر وہ دم ہی نہیں زیر دام لیتے ہیں

جھکائے ہے سر تسلیم ماہ نو پر وہغرور حسن سے کس کا سلام لیتے ہیں

ترے خرام کے پیرو ہیں جتنے فتنے ہیںقدم سب آن کے وقت خرام لیتے ہیں

ہمارے ہاتھ سے اے ذوقؔ وقت مے نوشیہزار ناز سے وہ ایک جام لیتے ہیں

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں