8 اشعار

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے

Koi in tang dahano se mohabbat na kare

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے

«کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرےاور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرے

عشق کے داغ کو دل مہر نبوت سمجھاڈر ہے کافر کہیں دعوائے نبوت نہ کرے

ہے جراحت کا مری سودۂ الماس علاجفائدہ اس کو کبھی سنگ جراحت نہ کرے

ہر قدم پر مرے اشکوں سے رواں ہے دریاکیا کرے جادہ اگر ترک رفاقت نہ کرے

آج تک خوں سے مرے تر ہے زبان خنجرکیا کرے جب کہ طلب کوئی شہادت نہ کرے

ہے یہ انساں بڑے استاد کا شاگرد رشیدکر سکے کون اگر یہ بھی خلافت نہ کرے

بن جلے شمع کے پروانہ نہیں جل سکتاکیا بڑھے عشق اگر حسن ہی سبقت نہ کرے

پھر چلا مقتل عشاق کی جانب قاتلسر پہ برپا کہیں کشتوں کے قیامت نہ کرے

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں