6 اشعار

ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے

Tere kuche ko woh beemar-e-gham dar-ul-shifa samjhe

ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے

«ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھےاجل کو جو طبیب اور مرگ کو اپنی دوا سمجھے

ستم کو ہم کرم سمجھے ، جفا کو ہم وفا سمجھےاور اُس پر بھی نہ سمجھے وہ تو اُس بُت سے خدا سمجھے

تجھے اے سنگدل آرامِ جانِ مبتلا سمجھےپڑیں پتھر سمجھ پر اپنی ہم سمجھے تو کیا سمجھے

مجھے آتا ہے رشک اُس رندِ مے آشام پر ساقینہ جو "دع ماکدر" جانے نہ جو "خذ ما صفا" سمجھے

نہ آیا خاک بھی رستہ سمجھ میں‌ عمرِ رفتہ کامگر سمجھے تو داغِ معصیت کو نقشِ پا سمجھے

سمجھ میں ہی نہیں ‌آتی ہے کوئی بات ذوقؔ اُس کیکوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے؟ ​

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں