11 اشعار

وقت پیری شباب کی باتیں

Waqt-e-peeri shabab ki baatein

وقت پیری شباب کی باتیں

«وقت پیری شباب کی باتیں» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 7 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

وقت پیری شباب کی باتیںایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھودل خانہ خراب کی باتیں

واعظا چھوڑ ذکر نعمت خلدکہہ شراب و کباب کی باتیں

مہ جبیں یاد ہیں کہ بھول گئےوہ شب ماہتاب کی باتیں

حرف آیا جو آبرو پہ مریہیں یہ چشم پرآب کی باتیں

سنتے ہیں اس کو چھیڑ چھیڑ کے ہمکس مزے سے عتاب کی باتیں

جام مے منہ سے تو لگا اپنےچھوڑ شرم و حجاب کی باتیں

مجھ کو رسوا کریں گی خوب اے دلیہ تری اضطراب کی باتیں

جاؤ ہوتا ہے اور بھی خفقاںسن کے ناصح جناب کی باتیں

قصۂ زلف یار دل کے لیےہیں عجب پیچ و تاب کی باتیں

ذکر کیا جوش عشق میں اے ذوقؔہم سے ہوں صبر و تاب کی باتیں

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں