6 اشعار

آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی

Aankh se aankh milata hai koi

آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی

«آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئی

وائے حیرت کہ بھری محفل میںمجھ کو تنہا نظر آتا ہے کوئی

صبح کو خنک فضاؤں کی قسمروز آ آ کے جگاتا ہے کوئی

منظر حسن دو عالم کے نثارمجھ کو آئینہ دکھاتا ہے کوئی

چاہیے خود پہ یقین کاملحوصلہ کس کا بڑھاتا ہے کوئی

سب کرشمات تصور ہیں شکیلؔورنہ آتا ہے نہ جاتا ہے کوئی

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں