آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی
کلام: شکیل بدیوانی
آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئی
وائے حیرت کہ بھری محفل میںمجھ کو تنہا نظر آتا ہے کوئی
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)
مہمان شاعر: شکیل بدیوانی
آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئی
وائے حیرت کہ بھری محفل میںمجھ کو تنہا نظر آتا ہے کوئی
مرے ساقیا مجھے بھول جامرے دل ربا مجھے بھول جا
نہ وہ دل رہا نہ وہ جی رہانہ وہ دور عیش و خوشی رہا