12 اشعار

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں

Badle Badle Mere Gham Khwar Nazar Aate Hain

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں

«بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیںمرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیں

کشتئ غیرت‌ احساس سلامت یا ربآج طوفان کے آثار نظر آتے ہیں

انقلاب آیا نہ جانے یہ چمن میں کیساغنچہ و گل مجھے تلوار نظر آتے ہیں

جن کی آنکھوں سے چھلکتا تھا کبھی رنگ خلوصان دنوں مائل تکرار نظر آتے ہیں

جو سنا کرتے تھے ہنس ہنس کے کبھی نامۂ شوقاب مری شکل سے بیزار نظر آتے ہیں

ان کے آگے جو جھکی رہتی ہیں نظریں اپنیاس لیے ہم ہی خطاوار نظر آتے ہیں

دشمن خوئے وفا رسم محبت کے حریفوہی کیا اور بھی دو چار نظر آتے ہیں

جنس نایاب محبت کی خدا خیر کرےبوالہوس اس کے خریدار نظر آتے ہیں

وقت کے پوجنے والے ہیں پجاری ان کےکوئی مطلب ہو تو غم خوار نظر آتے ہیں

جائزہ دل کا اگر لو تو وفا سے خالیشکل دیکھو تو نمک خوار نظر آتے ہیں

روز روشن میں اگر ان کو دکھاؤ تارےوہ یہ کہہ دیں گے کہ سرکار نظر آتے ہیں

ہم نہ بدلے تھے نہ بدلے ہیں نہ بدلیں گے شکیلؔایک ہی رنگ میں ہر بار نظر آتے ہیں

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں