بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں
کلام: شکیل بدیوانی
بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیںمرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیں
کشتئ غیرت احساس سلامت یا ربآج طوفان کے آثار نظر آتے ہیں
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)
مہمان شاعر: شکیل بدیوانی
بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیںمرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیں
کشتئ غیرت احساس سلامت یا ربآج طوفان کے آثار نظر آتے ہیں
نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہےنئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہے
غم عشق سے ہیں غم ہستی کے ہنگامے جدا لیکنوہاں بھی دن گزرتے ہیں یہاں بھی کام چلتا ہے
گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سےصبح جب نکلتے تھے پھول خواب گاہوں سے
خوں بہا عزیزوں کا آفتاب سے لوں گادھوپ کھا گئی میرے لوگ ٹھنڈی چھاؤں سے