5 اشعار

مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

Mere Hamnafas Mere Hamnawa Mujhe Dost Ban Ke Dagha Na De

مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

«مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دےمیں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

مرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگیمجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے

مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گریہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے

مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیںمجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے

وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے توترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں