7 اشعار

بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے

Be-khudi Hai Na Hoshiyari Hai

بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے

«بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہےبادہ خواری سی بادہ خواری ہے

حسن مصروف پردہ داری ہےجانے اب کس نظر کی باری ہے

تو نے دیکھی تو ہوگی اے ناصحوہ محبت جو اختیاری ہے

کم نہیں شورش نفس لیکنزندگی پر جمود طاری ہے

غم الفت تو دل سے ہار چکااب غم زندگی کی باری ہے

جس چمن میں کبھی نہ آئے بہاراس چمن کی خزاں بھی پیاری ہے

ہائے وہ بادہ کش کہ جس نے شکیلؔزندگی بے پئے گزاری ہے

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں