17 اشعار

مجھے بھول جا

Mujhe Bhool Ja

مجھے بھول جا

«مجھے بھول جا» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

مرے ساقیا مجھے بھول جامرے دل ربا مجھے بھول جا

نہ وہ دل رہا نہ وہ جی رہانہ وہ دور عیش و خوشی رہا

نہ وہ ربط و ضبط دلی رہانہ وہ اوج تشنہ لبی رہا

نہ وہ ذوق بادہ کشی رہامیں الم نواز ہوں آج کل

میں شکستہ ساز ہوں آج کلمیں سراپا راز ہوں آج کل

مجھے اب خیال میں بھی نہ ملامجھے بھول جا مجھے بھول جا

مجھے زندگی سے عزیز ترفقط ایک تیری ہی ذات تھی

تری ہر نگاہ مرے لیےسبب سکون حیات تھی

مری داستان وفا کبھیتری شرح حسن صفات تھی

مگر اب تو رنگ ہی اور ہےنہ وہ طرز ہے نہ وہ طور ہے

یہ ستم بھی قابل غور ہےتجھے اپنے حسن کا واسطہ

مجھے بھول جا مجھے بھول جاقسم اضطراب حیات کی

مجھے خامشی میں قرار ہےمرے صحن گلشن عشق میں

نہ خزاں ہے اب نہ بہار ہےیہی دل تھا رونق انجمن

یہی دل چراغ مزار ہےمجھے اب سکون دگر نہ دے

مجھے اب نوید سحر نہ دےمجھے اب فریب نظر نہ دے

نہ ہو وہم عشق میں مبتلامجھے بھول جا مجھے بھول جا

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں