جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں
جینے والے قضا سے ڈرتے ہیںزہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیں
زاہدوں کو کسی کا خوف نہیںصرف کالی گھٹا سے ڈرتے ہیں
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)
مہمان شاعر: شکیل بدیوانی
جینے والے قضا سے ڈرتے ہیںزہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیں
زاہدوں کو کسی کا خوف نہیںصرف کالی گھٹا سے ڈرتے ہیں
تکمیل شباب چاہتا ہوںہو جاؤں خراب چاہتا ہوں
سر معرکۂ الم ہے کرناتھوڑی سی شراب چاہتا ہوں
تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھاکہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھا
میری عرض شوق پڑھ لیں یہ کہاں انہیں گواراوہیں چاک کر دیا خط جہاں میرا نام دیکھا
بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہےبادہ خواری سی بادہ خواری ہے
حسن مصروف پردہ داری ہےجانے اب کس نظر کی باری ہے
شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کاحکم آدم کو ہے جنت سے نکل جانے کا
ان سے کچھ کہہ تو رہا ہوں مگر اللہ کرےوہ بھی مفہوم نہ سمجھیں مرے افسانے کا